ڈنمارک: پاکستانی سفارتخانہ چھ لاکھ کرونا معاوضہ ادا کرے ۔عدالتی فیصلہ

ڈنمارک میں پاکستان کے سفارتخانہ کے خلاف ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے  ہوئے، لنگبی کی شہری عدالت نے پاکستانی سفارتخانے کو حکم دیا ہے کہ وہ  اپنی ایک ڈینش خاتون ملازمہ کو ناجائز بر طرف کرنے کی بنا پر چھ لاکھ کرونا بطور معاوضہ ادا کرے ۔
خصوصی رپورٹ : نصر ملک ،
ایڈیٹر،  اُردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے
ڈنمارک میں  پاکستانی سفارتخانے کی ملازمہ ، چونتیس سالہ ماریآنے تھورھاؤگ  کو کوئی وجہ بتائے بغیر تب ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا تھا جب اُس نے سفارتخانہ والوں کو بتایا کہ وہ ’’ حاملہ ‘‘ ہے ۔ لیکن اب عدالتی فیصلے کے باوجود، پاکستانی سفارتخانہ معاوضہ کی یہ چھ لاکھ کرونا کی رقم ادا کرنے کا با لکل پابند نہیں اور نہ ہی سفارتخانہ یہ رقم مذکورہ خاتون کو ادا کرنا چاہتا ہےا ۔
ڈینش قومی خبر رساں ایجنسی ، ریٹزاؤ کے حوالے سے ڈینش میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق، چونتیس سالہ ماریآنے تھورھاؤگ کا کہنا ہے کہ جب اُس نے  پاکستانی سفیر ( فوزیہ مفتی عباس) کو بتایا کہ وہ حاملہ ہے تو انہوں نے جواب میں کہا ’’ ( کاش)  میں نے سنا ہوتا کہ تم  کوئی بچے پیدا نہیں کر سکتی ہو ۔‘‘ ماریآنے تھورھاؤگ نے بتایا کہ یہ سن کر اسے سخت صدمہ ہوا اور اُس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ماریآنے تھورھاؤگ ، کوپن ہیگن  میں پاکستان کے سفارتخانے میں بطور ’’ سکریٹری ‘‘ ملازم تھی ۔
ماریآنے تھورھاؤگ  کی ملازمت اگرچہ ’’ ڈینش ملازمین کے ملازمتوں سے متعلقہ قوانین ‘‘ کے تحت اسی زمرے میں شمار کی جاتی تھی لیکن، پاکستان کی سفیر کے ساتھ مذکورہ بالا، بات چیت کے  ایک ماہ بعد، ماریآنے تھورھاؤگ  کو اس کی ملازمت سے بر طرف کردیا گیا کیونکہ  ’’ سفارتخانہ کے عملے میں کمی کرتے ہوئے اخراجات بچانا مقصود تھا۔‘‘
اپنی ملازمت سے اس ’’ بیجا بر طرفی ‘‘ کے بعد ، ماریآنے تھورھاؤگ،  جو بیروزگاری الاؤنس کے، سی اے نامی کھاتے کی رکن ہے، اُس نے اپنی ٹریڈ یونین سے وکیل کی مدد حاصل کرتے ہوئے، پاکستانی سفارتخانہ کے خلاف، مساوی سلوک کے ایکٹ ‘‘ کے تحت مقدمہ دائر کرتے ہوئے پاکستانی سفارتخانہ سے اسے معاوضہ ادا کرائے جانے کا مطالبہ کر دیا ۔ جس پر لنگبی کی شہری عدالت نے  ماریآنے تھورھاؤگ کے حق میں فیصلہ سنایااور وہ مقدمہ جیت گئی ۔
ڈینش میڈیا رپورٹس کے مطابق، عدالت نے پاکستان کے سفارتخانہ کو حکم دیا کہ وہ ماریآنے تھورھاؤگ کو چھ لاکھ کرونا بطور معاوضہ ادا کرے ۔ معاوضہ کی اس رقم میں ماریآنے تھورھاؤگ کی چھٹیوں کے پیسے اور ’’ اوور ٹائم ‘‘ کے پیسے بھی شامل ہیں جب کہ محض اس کے حاملہ ہونے کی وجہ سے ، اسکی غیر منصفانہ برطرفی کا ہرجانہ بھی شامل ہے ۔
 چھ لاکھ کرونا معاوضہ کی مذکورہ رقم کے علاوہ، عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا  کہ اس مقدمے پر اٹھنے والے اخراجات بھی پاکستانی سفارتخانہ ادا کرے ۔ لیکن عدالتی فیصلے کے باوجود چھ ماہ سے  پاکستانی سفارتخانہ  یہ رقم ادا کرنے سے انکار کر چکا ہے ۔
برطرف کی گئی سکریٹری ماریآنے تھورھاؤگ کے وکیل سٹین مارسلیو نے پاکستانی سفارتخانہ کے اس انکار پر سخت تعجب کا اظہار کیا ہے ۔
وکیل سٹین مارسلیو کا کہنا ہے کہ ،، بیشک غیر ملکی سفارتخانے ڈینش قانون کی پاسداری کے پابند ہوتے ہیں لیکن  ’’ سفارتی استثنیٰ ‘‘ حاصل ہونے کی وجہ سے،  پاکستانی سفارتخانہ اپنے ڈینش ملازمین کو جیسے چاہے رکھ سکتا اور ان سے سلوک کر سکتا ہے ، ۔ وکیل سٹین مارسلیو نے اس معاملے پر مدد حاصل کرنے کے لیے متعدد بار ڈینش وزارت خارجہ کے متعلقہ  پروٹوکول شعبہ سے رابطہ بھی کیا لیکن، جیسا کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے وزارت خارجہ کا متعلقہ شعبہ کوئی نتائج برآمد نہ کر سکا ۔
ڈینش ٹی وی ٹو کی خبروں کے مطابق، ڈنمارک میں پاکستان کی سفیر، فوزیہ مفتی عباس کو ، اگست دو ہزار تین میں اس معاملے پر بات چیت کے لیے ڈینش وزارت خارجہ میں طلب بھی کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ ’’ ڈینش وزارت خارجہ امید رکھتی ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ ڈینش قوانین و ضوابط کی تکریم کرتے ہوئے ان کی پاسداری کرے گا،لیکن یہ میٹنگ بھی بیکار گئی کیونکہ پاکستانی سفارتخانہ ابھی تک معاوضہ کے چھ لاکھ کرونا ادا کرنے سے انکار کر رہا ہے اور یہ معاملہ جوں کا توں اٹکا ہوا ہے ۔
وکیل سٹین مارسلیو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں  جب تک ڈینش وزارت خارجہ  اس معاملے پر نرمی اختیار کیے ہوئے ہے، پاکستانی سفیر اس معاملے کو سنجیدہ نہیں سمجھتیں کیونکہ معاوضہ کی رقم ادا کرنے سے انکار پر انہیں نہ کسی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور نہ ہی شاید انہیں اس کی کوئی پرواہ ہے ۔
ڈنمارک میں فی الوقت ۸۰غیر ملکی سفارتخانے ہیں اور ان میں کتنے خالص ڈینش النسل ملازمین کام کرتے ہیں، اس بارے میں کوئی حتمی عداد و شمار موجود نہیں لیکن ایک بڑے ہی محتاط اندازے کے مطابق کوئی ایک ہزار ڈینش ان غیر ملکی مشنوں سے منسلک ہیں ۔ جن میں دستکار، مالی اور ڈرائیور بھی شامل ہیں ۔
وکیل سٹین مارسلیو کے مطابق،  اگر کوئی سفارتخانہ ان ملازمین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا اور بعد میں اس سے منحرف ہو جاتا ہے تو اس صورت میں ان غیر ملکی سفارتخانوں کے ساتھ کام کرنے والے ڈینش ملازمین کو اپنی ملازمتوں کے حوالے سے کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ۔ اور نہ ہی سول عدالتیں ان سفارتخانوں کو پابند کر سکتی ہیں ۔ کیونکہ انہیں، ’’ سفارتی استثنیٰ ‘‘ حاصل ہوتا ہے ۔
وکیل سٹین مارسلیو کا کہنا ہے کہ ڈینش وزارت خارجہ کو ، ڈینش قوانین و ضوابط کا احترام نہ کرنے اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکی سفارتخانوں کے خلاف پابندیوں کے امکان کا جائزہ لینا چاہیئے ۔ یا پھر ملکی سیاستدانوں کو ان معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے اقدامات لینے چاہئیں

Add comment


Security code
Refresh