یورپی یونین کے شہریوں کوبرطانیہ میں چار سال تک کوئی سرکاری ہلپ نہیں ملے گئی

ڈیوڈ کیمرون نے اس ڈیل کو برطانیہ کے مفادات کی ضامن قرار دے کر اپنے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یونین میں برطانیہ کی شمولیت جاری رکھنے کے حق میں رائے دیں

 

یہ سمجھوتہ اٹھارہ گھنٹے تک جاری رہنے والے پیچیدہ مذاکرات کے بعد عمل میں آیا۔ سمٹ میں شریک برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کسی ایسے سمجھوتے پر پہنچنا چاہتے تھے، جسے دکھا کر وہ اپنے ملک میں مجوزہ ریفرنڈم میں اُن ووٹرز کو یورپی یونین کے حق میں ووٹ ڈالنے کا قائل کر سکیں، جو یونین میں برطانیہ کی رکنیت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ یہ ریفرنڈم ممکنہ طور پر اس سال 23 جون کو منعقد کیا جا سکتا ہے۔ یہ ریفرنڈم اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا کیونکہ اب تک کسی بھی رکن ملک نے یورپی یونین چھوڑنے یا اس میں آئندہ بھی رکنیت رکھنے کے موضوع پر اس طرح سے رائے شماری نہیں کروائی۔

ایک وقت پر ایسا لگ رہا تھا کہ اس سمٹ میں شاید مزید ایک رات تک کے لیے توسیع کرنا پڑے کیونکہ مشرقی یورپی ممالک کی جانب سے اس سمجھوتے کے خلاف شدید مزاحمت سامنے آ رہی تھی۔ اُن کی جانب سے اس ڈیل میں شامل اس شق پر کافی اعتراضات کیے گئے کہ یورپی یونین سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں کام کرنے والے وہ شہری، جن کے بچے اُن کے ساتھ نہیں بلکہ پیچھے اپنے اپنے ملکوں میں ہوں گے، بچوں کے خصوصی الاؤنسز سے محروم رہیں گے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے، جسے ڈنمارک کی طرح کے دیگر ممالک بھی اپنے ہاں رائج کرنے کے خواہاں ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس ڈیل کی تفصیلات عام کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ یورپی یونین کے رکن ملکوں سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں کام کرنے والے شہریوں کو مکمل سماجی مراعات تک رسائی کے لیے چار سال تک کا انتظار کرنا ہو گا۔ برطانیہ کو سات سال تک کے لیے اس ضابطے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی عوام سے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ برطانیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اس لیے وہ اُن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یونین میں برطانیہ کی شمولیت جاری رکھنے کے حق میں رائے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ یونین کے اندر رہتے ہوئے زیادہ مضبوط ہو گا، نہ کہ اسے چھوڑ کر‘۔ کیمرون ہفتے کے روز اپنی کابینہ کو اس ڈیل کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے جبکہ پیر کو پارلیمان سے خطاب کریں گے۔

تاہم آیا اس ڈیل کے بعد بھی برطانوی ووٹر یورپی یونین کے حق میں ہی رائے دیں گے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں یونین کے حق میں اور مخالفت میں رائے رکھنے والوں کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ جمعہ اُنیس فروری کو منظرِ عام پر آنے والے ایک سروے کے نتائج کے مطابق یونین سے برطانیہ کے اخراج کے حق میں رائے رکھنے والوں کی تعداد دو فیصد زیادہ تھی۔ جہاں سروے میں شریک چونتیس فیصد برطانوی شہریوں نے یونین کے حق میں رائے دی، وہاں اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کی شرح چھتیس فیصد تھی۔ جو شرکاء ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ اپنا ووٹ کس حق میں دیں، اُن کی شرح اس سروے میں 23 فیصد بتائی گئی ہے۔ سات فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کا ہی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ برطانیہ کو پہلے بھی یورپی یونین کا ایک ڈھیلا ڈھالا رکن ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ نہ تو وہ مشترکہ کرنسی یورو کو اپنانے والے ملکوں پر مشتمل یورو زون میں شامل ہوا ہے اور نہ ہی باہمی داخلی سرحدوں پر چیکنگ ختم کرنے والے ملکوں کے شینگن زون کا رکن بنا ہے۔ اسی طرح وہ پولیس اور عدلیہ کے درمیان تعاون کے کئی دیگر معاہدوں میں بھی شامل نہیں ہوا۔

Comments   

0 #1 profile 2018-10-31 19:03
Need cheap hosting? Try webhosting1st, just $10 for an year.

Quote

Add comment


Security code
Refresh