۔ یونان سستا ترین سیکس فروخت کرنے والے ممالک میں سے ایک بڑا ملک بن چکا ہے

 یونان میں نان، سینڈوچ کی خاطر نوعمر لڑکیاں جسم فروشی پر تیار 

 

یونان میں نوجوان لڑکیاں ایک سینڈوچ کی خاطر جسم فروشی کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ اقتصادی بحران اور سخت حکومتی بچتی اقدامات کی وجہ سے اس یورپی ملک کے عوام شدید مالیاتی مسائل کا شکار ہیں۔

یونان سستا ترین سیکس فروخت کرنے والے ممالک میں سے ایک بڑا ملک بن چکا ہے

ایک نئے مطالعے کے نتائج کے مطابق جب یونان میں اقتصادی بحران شروع ہوا تھا تو وہاں ایک سیکس ورکر خاتون پچاس یورو کے عوض جسم فروشی کرتی تھی لیکن اب تیس منٹ کے ایک سیشن کے لیے جسم فروش خاتون تقریبا 2 یورو پر بھی تیار ہو جاتی ہے۔

ایتھنز میں واقع Panteion یونیورسٹی سے وابستہ عمرانیات کے پروفیسر جارج لیکسوس نے لندن ٹائمز کو بتایا، ’’کچھ خواتین ایسا (جسم فروشی) صرف ایک چیز پائے یا سینڈوچ کی خاطر بھی کرنے کو تیار ہو چکی ہیں، کیونکہ وہ بھوکی ہوتی ہیں اور انہیں کچھ کھانا ہوتا ہے۔۔۔ دیگر خواتین ٹیکس اور بلز کی ادائیگی یا ضروری ادویات کی خریداری کے لیے بھی جسم بیچنے لگ گئی ہیں۔‘‘

جارج لیکسوس کی ٹیم نے تین سال کے دوران جمع کردہ اپنے اعداد وشمار کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ اس دوران یونان بھر میں جسم فروشی کرنے والی سترہ ہزار خواتین کا انٹرویو بھی کیا گیا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب یونان میں جسم فروشی کی مارکیٹ میں یونانی خواتین نے مشرقی یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سن 2010ء تک یونان میں جسم فروشی کے لیے مشرقی یورپی خواتین زیادہ فعال تھیں لیکن اب وہاں جسم فروشی کی 80 فیصد مارکیٹ یونانی خواتین کی ہی دسترس میں آ چکی ہے۔

لیکسوس کو اپنی تحقیق کے دوران چار سو ایسے کیس ملے ہیں، جن میں خواتین صرف ایک وقت کے کھانے کی خاطر جسم فروشی کر رہی ہیں لیکن حقیقت میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونان کے مالیاتی بحران سے قبل وہاں کی صورتحال ایسی ہرگز نہ تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ اس وقت یونان سستا ترین سیکس فروخت کرنے والے ممالک میں سے ایک بڑا ملک بن چکا ہے۔

عمرانیات کے پروفیسر جارج لیکسوس نے مزید کہا کہ مایوس نوجوان لڑکیاں، جو سستا ترین سیکس فروخت کر رہی ہیں، ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں کمی ہو گی۔

لیکسوس نے کہا کہ یونان میں جسم فروشی شروع کرنے والی ایسی نوجوان لڑکیوں کی عمریں سترہ اور بیس برس کے درمیان ہیں۔ لیکسوس نے زور دیا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے نا کہ وہ ان اہم معاشرتی مسائل کو نظر انداز کر دے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے، جب گزشتہ ماہ ہی یونان میں ایک ایسی چوالیس سالہ بے روزگار خاتون کو 33 برس کی سزائے قید سنائی گئی تھی، جس نے پیسوں کی خاطر اپنی بارہ سالہ بچی کو ایک پادری اور ایک ریٹائرڈ شخص کے ساتھ جسم فروشی پر مجبور کر دیا تھا۔ اس خاتون کو ایک لاکھ یورو کا جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔ لیکسوس کے مطابق شدید مالیاتی مسائل یونانی عوام کے لیے پریشانی کا باعث تو بن ہی رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کی وجہ سے معاشرتی سطح پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہی

Comments   

0 #1 profile 2018-10-31 13:16
Need cheap hosting? Try webhosting1st, just $10 for an year.

Quote

Add comment


Security code
Refresh