جرمنی میں ’خطرناک اسلام پسندوں‘ کی تعداد بڑھتی ہوئی

جرمنی میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور جہاں گزشتہ برس گیارہ لاکھ سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن پناہ کے لیے پہنچے،

خطرناک سمجھے جانے والے مسلم شدت پسندوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

وفاقی دارالحکومت برلن سے اتوار بائیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات ایک جرمن ہفت روزہ جریدے نے اپنی آج کی اشاعت میں جرائم کی تحقیقات کرنے والی وفاقی پولیس کے تازہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھی۔

جرمن جریدے ’دی وَیلٹ اَم زونٹاگ‘ کے مطابق جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی پولیس کے دفتر، جسے مختصرا بی کے اے بھی کہا جاتا ہے، کے مطابق یہ ادارہ ملک میں اب تک ایسے 497 بنیاد پرست مسلمانوں کا پتہ چلا چکا ہے، جو کسی بھی وقت عملاﹰ بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

BKA یا فیڈرل کریمنل آفس کے مطابق ’خطرہ‘ قرار دیے گئے یہ اسلام پسند ایسے افراد ہیں، جن پر ان کے انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ملک میں دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

اس جریدے نے بی کے اے کے تازہ ترین ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ ملک میں ایسے خطرناک اسلام پسندوں کی تعداد اتنی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے کہ جو تعداد اس سال جنوری میں 270 تھی، وہ اب 497 ہو چکی ہے۔

مزید یہ کہ ایسے ’خطرناک‘ اسلام پسندوں پر حکام کو محض شبہ ہی نہیں ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کا ایسے شدت پسند مسلمانوں کے طور پر باقاعدہ اندراج بھی کر رکھا ہے اور ان پر خفیہ طور پر نظر بھی رکھی جاتی ہے کہ جو کسی بھی وقت پرتشدد ہو سکتے ہیں۔

ان قریب 500 مسلم شدت پسندوں کے علاوہ بی کے اے نے 339 ایسے اضافی اسلام پسندوں کی ایک فہرست بھی تیار کر رکھی ہے، جنہیں ’متعلقہ افراد‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق یہ ایسے افراد ایسے بنیاد پسند مسلمان ہیں، جو ’خطرناک اسلام پسندوں‘ سے ہمدردی رکھتے ہیں اور دہشت گردانہ مقاصد کے لیے ان کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔

Comments   

0 #1 profile 2018-11-01 14:12
Need cheap hosting? Try webhosting1st, just $10 for an year.

Quote

Add comment


Security code
Refresh