جرمنی: المیہ پشاور ،اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان سفارتخانہ برلن میں شمعیں روشن کیءں اور پھول رکھے

برلن:  پاکستان سفارت خانہ برلن کے سامنے عارضی یادگار پر ، پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں پیارے اور معصوم بچوں کو جس بے دردی سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ اساتذہ و سٹاف کے خون کی ہولی کھیلی گئی بلاشبہ اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،ان معصوم شہداء کے ورثا اور پسماندگان سے اظہار یکجہتی اور تعزیت کیلئے برلن و گردونواح میں مقیم پاکستانی کیمونٹی کے ہر مکتبہ فکر کے مرد حضرات خواتین و بچوں اور سفارت کاروں و اہل کاروں نے پھولوں کے گلدستے رکھے اور شمعیں روشن کئیں، رکھی گئی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کئے۔ ان حلقوں نے عقیدت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور شہدا کے بلند درجات اور لواحقین کو صبر و جمیل کیلئے دعائیں کئیں ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پشاور سانحہ بربریت کی انتہا ہے دہشت گردی کے المناک سانحہ نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ،قوم دہشت گردی کے خلاف متحدہ ہوگئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے جس بے دردی سے معصوم بچوں کو شہید کیا ان کو اسی زبان میں جواب ملنا چاہیے ، المناک واقع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،انشا اللہ پاکستان کی مسلح افواج ،پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز ان دہشت گردوں کو نست و نابود کر دیں گئیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم وطن عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے گریز نہیں کرینگے۔

پشاور پاکستان میں درندگی کے خلاف فرینکفرٹ جرمنی میں احتجاجی پروگرام

مورخہ18دسمبر2014کو فرینکفرٹ جرمنی میں پاکستانی کیمونٹی کی اہم شخصیات کا ایک خصوصی اجلاس پشاور میں130سے زائد معصوم بچوں کی شہادت کے حوالے سے پاکستانی قونصلیٹ فرینکفرٹ میں ہوا

پاکستانی قونصلیٹ میں پشاور میں معصوم شہیدوں کی یاد میں شعمیں روشن

 آج آٹھارہ دسمبر کو بعد دوپہر تین سے شام چھ بجے تک پاکستانی قونصلٹ فرینکفرٹ میں پشاور کے شہیدوں کے لیے شمعیں روشن کی گئیں جو مذہب کے نام پر دہشت گردی کے  خلاف ایک احتجاج بھی تھا اس میں400سے زائد افراد نے شرکت کی جس میں  بچے اورخواتین بھی شامل تھیں اور بہت سے انڈین لوگ بھی یہاں آئے ہوئے تھے اور خاص طور پر سنگھ لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی یہ سب افراد رنگ نسل مذہب قوم سے بلند ہو کر صرف اس انسانیت سوز واقعہ کی مذمت اور پاکستانیوں سے اظہار ہمدردی اور یک جہتی کے لیے آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم سب اک ہیں پہلے انسان اور عوام  پھر بعد میں کچھ اور۔ یہاں تمام پاکستانی میڈیے کے ؑعلاوہ جرمن میڈیا بھی شریک تھا ۔ قونصلیٹ لوگوں سے کچا کچا بھری ہوئی تھی یہاں لوگ معصوم بچوں پر جب بات کرتے تو انکی آنکھیں نم ہو جاتیں تھیں اور جنہوں نے ان پھولوں کو شہید کیا انکے خلاف ہر آنکھ میں یہاں آگ اور نفرت کے شعلے بھی صاف دیکھی دے رہے تھے ۔ 

یہاں پر تقریبا تما م افراد یہ کہہ رہے تھے کہ اس کے ذمہ دار ہمارے حکمران بھی ہیںجنکی  کی وجہ سے یہاں تک حالات پہنچے اور  ایسے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں جو روکنے کا نام تک نہیں لے رہے ۔ اب تک پچپن ہزار افراد اس مذہبی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں شاید اتنے افراد کسی جنگ میں ہلاک نہیں ہوئے لیکن  پاکستان میں موجودہ جمہوریت اور آزادی  کسی جنگ سے بدتر ہو چکی ہے اور زندہ انسانوں کے لہو کی پیاسی ہے ۔ہم اس کا کیا کریں جو ہمارے بچوں کی جان لے رہی ہے ۔عوام ہر روز خون اور آگ میں بھسم ہو رہے ہیں  لیکن حکمران بے بس اور خاموش تماشائی ہیں شاید اس لیے کہ یہ انکے بچے نہیں ہیں۔ شاید اسی لیے یہاں ہر آنکھ آشک بار تھی اور اپنے حکمرانوں کے سخت ناراض اور نالاں تھے جو آج بھی ان تمام مذہبی جماعتوں اور ملاوں کے خلاف کچھ نہیں کر رہے جو آج بھی کھلے عام ان دہشت گردوں کے ساتھ ہیں ۔ یہاں جماعت اسلامی اور لال مسجد کی ملا جو انسان کے روپ میں درندے ہیں کے خلاف بڑی سخت نفرت دیکھنے میں نظر آئی جو کھلے عام دہشت گردوں کے حمائتی ہیں اور ہمیشہ سے ہیں اور آج بھی انہی کی حمائت کرتے ہیں  

یہاں لوگوں میں ایک چیز بڑی واضح اور نمایاں تھی کہ لوگ اب تمام حکمرانوں اور روائتی سیاسی پارٹیوں سے مکمل مایوس اور ناامید نظر آرہے تھے اور ان میں یہ احساس بھی نمایاں تھا کہ اب وہ خود کچھ کرنا چاہیتے ہیں ۔یقینا یہی ایک عوامی انقلاب کی علامتیں ہیں ۔یہاں لوگ شمعوں کے ساتھ حکمرانوں اور موجود نطام پر اپنا اعتماد اور توقعات بھی جلا رہے تھے ۔

جماعت احمدیہ کی سیاسی پناہ پر کمائی ۔ جرمن ٹی وی

جماعت احمدیہ جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے اپنے ممبران سے بے تحاشہ رقم کیش کرتی ہےاور اس کے بعد ہی ان کو جماعتی ممبر ہونے کا سرٹیفکٹ ایشو کرتی ہے