کالرسروہے میں ڈوچ پاکستانی ایسوسی ایشن کی ستاروں بھر شام

 جرمنی میں پاکستانی کیمونٹی اور جرمن لوگوں کا مشترک رنگا رنگ پروگرام جو ہر سال شہر کالرسروہے میں ہوتا ہے اس سال بھی بڑی سج دھج اور شاندار طریقے سے منایا گیا

کالرسروہے میں ڈوچ پاکستانی ایسوسی ایشن کے بیس سالہ اس پروگرام کی خوبصورتی یہ  ہے کہ اس میں تمام خواتین و حصرات نہ صرف خوش لباس ہو تے ہیں بلکہ خوش مذاج بھی نظر آتے ہیں اور وہ شاید اس لیے کہ اس پروگرام میں روائتی تنگ نظری  کی گنجائش نہیں ہوتی یہاں قوم ملک رنگ اور مذہبی تعصب کا تعفن بھی نہیں ہوتا ۔جہاں جرمن لوگ اور پاکتسانی خواتین وحضرات بھی جنسی تعصب کی پستگی  سے بلند نظر آتے ہیں جس سے یہ ایک خوبصورت سماجی تفریحی پروگرام بن جاتا ہے ماضی کی یاد گاریں ہمارے بزورگ پچھلی صفوں میں جبکہ مستقبل کے معمار نوجوان آگی صفوں میں پیش پیش ہوتے ہیں اور سٹیج نوجوانوں کا ہی ہوتا ہے جس وجہ سے چند یا زیادہ پسماندہ اور روائتی بڑے جلی کڑی تنقید کی سرگوشیاں کرتے ہر بار یہاں نمایاں محسوس ہوتے ہیں جبکہ نوجوان اور نوجوان سوچ رکھنے وا لے انکو بھی بہت محضوز کرتے ہیں لیکن سب بڑے ایسے نہیں ہوتے ہیں ۔

اسی لیے میں ڈوچ پاکستانی ایسوسی ایشن کو ایک تنظیم سے زیادہ کچھ تحریک سمجھتا ہوں جنہوں نے سٹیج روائتی بوسیدہ بوڑھوں کی بجائے پرجوش نوجوانوں کو دیا جو اس پروگرام کو منظم کرتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروکار لاتے ہیں ۔جس سے اس پروگرام کا رنگ اور انداز ہی الگ ہو تا ہے اگر یہ ایک علمی نہیں ہوتا تو تفریحی اور کچھ ثقافتی تحریک ضرور ہے کیونکہ تحریک کا مطلب صرف مارچ مظاہرے اور جلسے جلوس ہی نہیں ہوتے بلکہ تحریکیں علمی ،عملی، قلمی شعوری اور نظریاتی بھی ہوتی ہیں اس کی وضاحت اس لیے ضروری تھی کہ پروگرام میں چند عظیم پڑھے لکھے افراد نے مجھے سے یہ کہا کہ یہ ایسوسی ایشن ہے ایک تحریک نہیں ہے ان  نام نہاد دانشواروں اور صحافیوں  سے بندہ یہ پوچھے کہ جب کو ئی تنظیم بناتا ہے تو لازما اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے جس کے حصول کے لیے وہ اس پلیٹ فارم سے کام کرتا ہےجو ترقی پسند بھی ہو سکتا ہے اور رجعتی بھی ، ویسے بھی تحریک کے معنی حرکت کے ہیں آئندہ کھبی فراغت میں تحریک پر تفصیلی لکھوں گا یہاں اس کی گنجائش نہیں ہے ۔ 

 اس ایسوسی ایشن کے بہترین اور شاندار کام کی وجہ سے  اور اس کو سراہتے ہوئے مقامی حکومت نے اس کا اندراج جرمنی کی علاقائی گولڈن کتاب میں کیا  اس موقعہ پر یہاں کے مہر کے علاوہ نامور علاقائی شخصیات اور پاکستانی سفیر اور فرینکفرٹ کے قونصلر  بھی تھے یہ اعزاز پاکستانی کیمونٹی کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے جس کے لیے اس ایسوسی ایشن نے اپنے علاقے میں بیس سال سے شاندار کام  جاری کر رکھا ہے  ۔

چوہدری رفیق اور  انکی اہلیہ ڈوچ پاکستانی ایسوسی اہشن کی روح ورواں ہیں جن کی محنت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

اس پروگرام میں ڈاکٹر سعید کا ایک اچھا مقالہ تھا ۔ جہاں دعا آفتاب نے اپنے بہترین اور نہایت دل کش فنکارانہ صلاحیتوں کا رقص اور ماڈل شو میں اظہار کیا وہاں آفتاب حسین نے بھی اپنی آواز کے گن گیتوں میں کھلائے اس فن اکیڈمی کی جرمنی میں آرٹسٹ کوشیشوں اور بھر پور محنت سے اس مقام پر آنا قابل ستائش ہے اور خاص طور پر  جرمنی میں پاکستانیوں کی موجودہ  تنزلی اور گراوٹ کے شعور کی کیفت میں ان کا کام ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔ جس کو یقینا قدامت پرست کھبی تسلیم نہیں کریں گئے 

 

Comments   

0 #2 jawad tariq 2014-11-22 17:50
تنگ نظری اور قدامت پرستی نے ہماری ثقافت اور ملک کو برباد کر دیا اس کے خلاف جیتنا لکھا جائے کم ہے ۔
UK
Quote
0 #1 اقبال محمد 2014-11-22 17:46
واہ کیا بات ہے کیا خوبصورت لکھا ہے میں آپ اور میرے دوست آپ کے ساتھ ہیں
USA
Quote

Add comment


Security code
Refresh