جماعت احمدیہ کی سیاسی پناہ پر کمائی ۔ جرمن ٹی وی

جماعت احمدیہ جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے اپنے ممبران سے بے تحاشہ رقم کیش کرتی ہےاور اس کے بعد ہی ان کو جماعتی ممبر ہونے کا سرٹیفکٹ ایشو کرتی ہے

جس پرسیاسی پناہ کا دارومدار ہے ۔25 نومبر 2014بروز منگل کو جرمنی کے بڑے ترین اور سرکاری ٹی وی اے آر ڈی پر جماعت احمدیہ کی قیادت اور تنظیم کے خلاف ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ جرمنی میں جماعت احمدیہ اپنے عام ممبران کو بھاری بھاری رقوم کے بعد ہی جماعتی سرٹیفکٹ  ایشو کرتی ہے ۔ کیونکہ جماعت احمدیہ کا جماعتی سرٹیفکٹ جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے بہت اہم ہے  اور یہ جس کے پاس ہوتا ہے اس کو  تقریبا اور یقینا سیاسی پناہ ملتی ہے کیونکہ جماعت احمدیہ کے خلاف پاکستان کے آئین میں شفقیں موجود ہے جس وجہ سے یہ وہاں اپنے مذہبی فرائض  آزادی سے ادا نہیں کرسکتے ۔

اے آر دی نے اس انٹریو کا آغاز کولون میں ایکس احمدیہ افتخار سے کیا جس نے کہا کہ جماعت احمدیہ اپنا سرٹیفکٹ پیسوں کے عوض فروخت کرتی ہے اور اسی کے زریعے بلیک میل کرتی ہے ۔ اس میں ایک عدالتی کیس بھی پیش کیا گیا ہے جس میں ایک احمدی کو جماعت نے منفی سرٹیفکٹ اس لیے دیا کہ اس نے مقرر رقم ادا نہیں کی اس کے باوجود کے اس نے اپنی ماں کا زیور بھی بیچ دیا ۔ اسی طرح اس رپورٹ کے مطابق جماعت سیاسی پناہ کے لیے  اپنے ممبران کو دباتی اور بلیک میل کرتی ہے ۔ جس کے جواب میں جرمنی جماعت کے صدر عبدل اللہ واگس نے ان الزمات کو مانے سے مکمل اور صاف انکار کر دیا ۔

اس کے بعد رپورٹر ہنریش ہوف مان جرمنی کی ایک خاتون آفیسر کے پا س گیا جس نے کہا کہ ہم اس کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور جماعت کے سرٹیفکٹ کو ختم بھی کیا جس سکتا ہے ۔اس کے بعد ایس پی ڈی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ نہ صرف جماعت احمدیہ کا تاثر خراب ہوا ہےبلکہ سیاست دانوں کا بھی جو جماعت احمدیہ کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں ۔صوبہ حیسن میں جماعت احمدیہ کو قانونی طور پر ایک اسلامی جماعت تسلیم کیا گیا ہے جس طرح عیسائیت کو قانونی حثیت حاصل ہے ۔ ضلع گراوس گیراو میں غیر ملکیوں کے لیے کام کرنے والے نیم سرکاری آفسر نے ایک اخبار میں لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کا سرٹیفکٹ جرمنی میں پیسے کمانے کا لائسنس ہے اس اخبار کا بھی حوالا دیا گیا۔مندرجہ ذیل آپ اے آر ڈی  ٹی وی کی ویڈیو رپورٹ دیکھ سکتے ہیں اور جرمنی کے بڑے ترین رسالے ڈیر شپگل کا مضمون بھی پڑھ سکتے ہیں ۔

 

 

Der Spigel رسالے کا آرٹیکل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 

 

ARD کی ٹی وی رپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

NP پر مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کر یں

Comments   

0 #3 s a khalid 2014-11-30 03:31
Monthly contribution to community fund is a normal membership practice for Ahmadis. It has nothing to do with seeking asylum; it is a sign of active and sincere membership. I am residing in Pakistan and have no intention to go to Germany or anywhere else, but I contribute voluntarily to community fund 100% more than is obligatory. So the concern being shown or the bogus scandel raised is either malafide or ignorance.
Quote
0 #2 mubashar 2014-11-28 06:15
Totally wrong and rubbish.
Quote
-1 #1 Azad Ahmad 2014-11-26 19:20
Its true it was a way to make money it is a bussnes wich thay were doing long time ago now now German gornament and nation is waching reading and sirprise what was that and i think it was very important that some one must do some thing agenst it
Quote

Add comment


Security code
Refresh