پشاور پاکستان میں درندگی کے خلاف فرینکفرٹ جرمنی میں احتجاجی پروگرام

مورخہ18دسمبر2014کو فرینکفرٹ جرمنی میں پاکستانی کیمونٹی کی اہم شخصیات کا ایک خصوصی اجلاس پشاور میں130سے زائد معصوم بچوں کی شہادت کے حوالے سے پاکستانی قونصلیٹ فرینکفرٹ میں ہوا

یہاں مذہب کے نام پر اس درندگی کی سخت مذمت کی گئی ۔ اور فرینکفرٹ میں آئندہ کا لاٗحہ عمل تشکیل دیا گیا۔

جس میں انیس دسمبر کو قونصلیٹ میں ان معصوم بچوں کے لیے شعیں روشن کی جائیں گئی اور اجتماعی دعائیں کی جائیں گئں اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جس کا وقت شام تین بجے سے چھ بجے تک ہوگا ۔

بروز ہفتہ20دسمبر کو فرینکفرٹ کے ریلوئے اسٹیشن کے قریب کائزر شٹراسے پر شام پانچ بجے سے سات بجے تک پھول اور شمعیں روشن کر کے ان معصوم شہیدوں کو سلام پیش کیا جاے گا اور دہشت گردی کو مسترد کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں26افراد نے شرکت کی اور طویل گفتگو کے بعد مندرجہ ذیل قرار داد متفقہ رائے سے منظور کی گئیں ۔

۱۔ فرینکفرٹ جرمنی کی تمام پاکستانی کمیونٹی اس انسانیت سوز دہشت گردی کی مکمل مذمت کرتے ہوئے ان بچوں کے والدین کے رنج وغم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو صبر و جمیل عطا فرمائے اور پاکستان کی سلامتی قائم رکھے ۔ 

۲۔ طالبان یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم، پارٹی یا گروپ کی مالی، اخلاقی ، بل واسطہ یا بلا واسطہ حمائت کرنے والے گرہوں ، تنظیموں یا پارٹیوں کو فوری کالعدم قرار دے کر ان کو قرار واقعی کی سزا دی جائے ۔ مذہب کے نام پر ان درندہ صفت اداروں ، مدرسوں اور تنظیموں کو غیر ممالک سے ملنے والی مالی امداد فوری طور پر بند کی جائے تمام مدرسے حکومتی سرپرستی میں چلائے جائیں 

۳۔ پاکستان میں کسی کو مذہب کے نام پر قتل کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ قائد اعظم نے کھبی بھی کسی تھیوکرٹیک ریاست کی حمائت نہیں کی بلکہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے سیکولر ریاست کے قائل تھے اور نظریہ پاکستان بھی یہی تھا جبکہ چند مفاد پرستوں نے غلط اور جھوٹ ان سے منسلک کر دیا۔ پاکستان میں مذہب اور ریاست کو مکمل الگ کیا جائے تاکہ آئے دن کی مذہبی قتل گری کا مستقل سد باب کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔

 

 

Comments   

0 #1 profile 2018-11-02 11:07
Need cheap hosting? Try webhosting1st, just $10 for an year.

Quote

Add comment


Security code
Refresh