جماعت احمدیہ کا سیاسی پناہ کے سرٹیفکٹ پرورکز کا استحصال

DER SPIEGEL 23 Nov 2015 ترجمہ۔ 

میں شائع ہونے والی خبر  . احمدیہ جماعت ایک مثالی جماعت سمجھی جاتی ہے

 

مگر اس کے اکابرین سال ہا سال سے سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کا مالی استحصال کر رہے ہیں

اس شخص ‘ لقمان احمد تارڑ نے اپنی تمام تر پونجی لگا دی‘ اپنے رشتہ داروں کے زیور گروی رکھوا دیئے‘ 

مگر پھر بھی اس کے پاس مطلوبہ رقم جمع نہ ہو سکی‘ 

اس نے اپنی جماعت کو اکیس سو یورو چندہ دیا مگر یہ بھی جو رقم طے پائی تھی اس سے نو سو یورو کم نکلی‘

اس لئے اس مذہبی جماعت نے اس شخص کو جو سرٹیفکیٹ دیا اس میں لکھا کہ یہ ایک معمولی درجہ کا کارکن ہے‘

تارڑ کیلئے یہ اندوہناک بات تھی‘

پیشہ کے اعتبار سے یہ شخص انجینیئر ہے اور اب سے دس سال پہلے سیاسی پناہ گزین بن کر جرمنی آیا‘

اس کا کیس ابھی تک چل رہا ہے ‘ اور اس کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ یہ بات ثابت کردے کہ وہ 

جماعت کا ایک سرگرم رکن ہے‘

جماعت احمدیہ مسلمانوں کے اندر ایک فرقہ ہے‘ اور اس کے ماننے والوں کو پاکستان میں 

مشکلات کا سامنا ہے‘ تارڑ جیسے سیاسی پناہ کے متلاشی لوگ یہاں جماعت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں‘

یہ بات جرمن حکومت کے علم میں ہے کہ جماعت احمدیہ کے لوگوں کو پاکستان میں مشکلا ت کا سامنا ہے 

اس لئے ان کی اسائلم اکثر منظور ہو جاتی ہے‘ 

مگر پہلے ان کو ایک سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑتا ہے کہ یہ جماعت کو ماننے والے مذہبی لوگ ہیں ‘

سرکاری اہلکار اور عدالتیں جماعت کے اس سرٹیفکیٹ کو خاصی اہمیت دیتی ہیں ‘ 

فرینکفرٹ میں احمدیہ جماعت کے مرکز سے جس کو یہ شاندار سرٹیفکیٹ جاری ہو جائے 

وہ امید کرسکتا ہے کہ اس کا کیس پاس ہو جائے گا‘

اور اگر یہ سرٹیفکیٹ معمولی درجہ کا ہو تو پھر پاس ہونے کے چانس خاصے کم ہوتے ہیں‘

ڈیر شپیگل میں مضمون پڑھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کریں

https://magazin.spiegel.de/digital/?utm_source=spon&utm_campaign=centerpage#SP/2014/48/130458619

Comments   

0 #1 profile 2018-10-31 18:54
Need cheap hosting? Try webhosting1st, just $10 for an year.

Quote

Add comment


Security code
Refresh