ایران ،سعودی تنازعہ مشرق وسطی پر حکمرانی کی جنگ ۔ دانیال رضا

ایران ، سعودی تنازعہ دنیا میں رونما ہونے والے عالمی اقتصادی ، سیاسی ، سفارتی، ریاستی اور سماجی بحرانوں سے الگ کوئی نئی شے نہیں ہے 

بلکہ انہی کا ایک تسلسل ہے جو موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی بوسیدگی اور کمزوری سے بین الااقوامی اور علاقائی طاقتوں کے غیر متوازن ہونے سے نئے توازن کے تکلیف دہ اور کٹھن مراحل ہیں۔

سعودی شہنشاہوں نے شعوری یا لاشعوری طور پرسنتالیس افراد کو پھانسی دے کر ایران کے خلاف ایک نئی شر انگیزی کو ابھارا جنکی انکو اشد ضرورت تھی ۔ ویسے تو سعودی عرب میں زندہ انسانوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر پھانسیاں دینا کوئی نئی اور عجب بات نہیں بلکہ عام معمول ہے جبکہ ایران میں صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے ۔ لیکن اس قتل گری کے بعد عالمی سطح پر جنم لینے والے انتشار ، سیاسی اور سفارتی بحران کا سعودی حکمرانوں کو  علم تھا اور یہ چاہتے بھی یہی تھے کہ ایران کے خلاف ایک اشتعال انگیزی کو تمام دنیا میں پھیلایا جائے۔ اسرائیل مکمل طور پر ایران کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ۔ سعودی حکمرانوں کو بخوبی معلوم  ہے کہ شام اور عراق کے بعد اب سعودی عرب اور ترکی کی باری ہے جنکی سماجی بنیادوں میں داخلی مسائل کا بارود بھر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ کر خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتا ہے ۔ جس سے سعودی حکمران اپنے داخلی تضادات خارجی سطح پر حل کر نے کی ناکام کوشیش کر رہے ہیں جو شاید اب ممکن نہیں رہا اور یہ اندرونی ناقابل حل مسائل اور تضادات ہی تھے جن کا بیرونی سطح پر موجودہ سعودی ، ایران تنازعہ سے اظہار ہوا جس کے پس پردہ مالیاتی حکمرانی کے مفادات کارفرماں ہیں ۔ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جس کی نوئے فیصد معیشت تیل کی برآمدات سے چلتی ہے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ساٹھ فیصد سے زیادہ کی کمی نے سعودی اقتصادیات کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ بین الاقوامی تیل کی منڈی میں خام تیل جو سو ڈالر سے کم ہو کر چوتیس ڈالر فی بیرل ہوچکا ہے نے سعودی معیشت میں تباہی کا سونامی بربا کر دیا جس کا واضح ثبوت رواں سال دوہزار سولہ کا سعودی تاریخی بجٹ خسارہ ہے جو ایک سو تیس بلین ڈالر ہے جو سابقہ سال سے ایک سو تیرہ بلین زیادہ  خسارہ کا بجٹ ہے ۔ مزید برآں اس سال سے ایران کا تیل بھی عالمی منڈی میں آرہاہے اور ایران سعودی عرب کے بعد دنیا میں دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جس سے یقیناًتیل کی عالمی منڈی میں سعودی عرب کا ایران سے مقابلہ تیز ہوگا ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں رسد سعودی تیل کی طلب میں کمی کا سبب بنے گئی اور ایرانی تیل عالمی منڈی میں آنے سے تیل کی بہتات قیمتوں میں مزید گراوٹ لائے گئی اور سعودی عرب کا معاشی بحران عالمی بحران کے ساتھ مزید تیز ہو گا جس سے ریاستی کٹوتیوں میں اضافہ اور عوامی سہولتوں میں کمی کی جائے گئی جو سعودی عرب میں سماجی اور عوامی بے چینی کا باعث بنے گئیں اور بڑھتا طبقاتی استحصال علاقائی اور مظلوم قومتوں پر جبر مزید بھیانک کر دے گا جو سعودی شہنشاہوں کی حکمرانی کو چیلنج کر ئے گا ۔ جس سے سعودی حکمران آج  شدید خوف زدہ ہیں اور لرز رہے ہیں اور اپنے جبر میں اضافہ کررہے ہیں لیکن یہی بڑھتا جبر ایک دن جبر کے خوف کو مٹا دے گا جو سعودی عرب میں انقلاب کا پیش منظر ہوگا۔

یمن جنگ سعودی حکمرانوں کی بڑی بے وقوفی اور پاگل پن تھا جس کے بڑے اخراجات نے چند ہفتوں میں ہی سعودی حکمرانوں کی مت مار دی اور ان کے سر سے جنگ کا بھوت اتار دیا ہے اب یہ یمن سے دم دبا کر بھاگنے کے چکر میں ہیں اور اپنے اس پاگل پن میں اپنی ہی بنائی اور پھیلائی ہوئی دہشت گردی کے خلاف ایک اتحاد بنانے کی خسی کوشیش کر رہے ہیں جو  اصل میں ایران کے خلاف ہے.  یقیناًنیٹو اور روس کی موجودگی میں یہ فوجی اتحاد  کھبی بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتااور نہ ہی کھبی فعال کردار ادا کر سکے گا دہشت گردی کے خلاف یہ اتحاد سعودی حکمرانوں کی کم عقلی کا دوسر بڑاا ثبوت ہے ۔ 

سعودی عرب کی تیل کے بعد دوسری بڑی آمدن کا زریعہ جج اور عمرہ کا کاروبا ہے ۔صرف پاکستان سے اس سال ایک لاکھ تنتالیس ہزار افراد سعودی عرب حج کے لیے جا رہے ہیں اورو ہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق فی حاجی سعودی معیشت میں تین لاکھ چوبیس ہزار روپے ڈالے گایعنی رواں سال پاکستانی حاجی بتیس ارب روپے سے زائد سعودی معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں گئے اور حکومت پاکستان اس سال حج سکیم کے تحت دو لاکھ ستر ہزار درخواستوں سے فی حاجی تقریبا ایک لاکھ روپے کماگئی ۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے پچیس لاکھ افراد اس سال حج ادا کریں گئے جس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں صرف ہر سال حج کی مد میں سعودی عرب کتنی بڑی کمائی کرتا ہے جو عمر کے علاوہ ہے جو تمام سال جاری رہتا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود سعودی شہنشاہوں کی عیاشیوں کے لیے یہ رقم بہت کم ہے ۔

دوسری طرف ایرانی حکمران سعودی عرب کی اشتعال انگیزی پر بڑے صبر وتحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے اس لیے کہ یہی ان کے حق میں فائدے مند ہے ۔ تمام دنیا کو معلوم ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کی عراق کے خلاف بے وقوفانہ جنگ نے مڈل ایسٹ میں طاقتوں کا توازن ختم کر دیا اور  مشرق وسطی کی طاقت عراق کی تباہی کے بعد ایران کی جھولی میں جا گری ۔ اب کو ئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مڈل ایسٹ کا سامراج  ایران ہے اور ایرانی حکمرانوں کو بھی اس کا بخوبی علم ہے اس لیے وہ بڑی وسیع ظرفی  سے ابھی تک سعودی عرب کو برداشت کر رہے ہیں لیکن زیادہ دیر نہیں کریں گے.  کیونکہ ایرانی حکمرانوں نے اس وقت کا بہت انتطار کیا ہے ۔ امریکہ نے بھی ایرانی طاقت کا کئی دہائیوں بعد آگ پر بیٹھ کر  اقرار کر لیا ہے اور کہا ہے کہ شام اور عراق کا مسئلہ ایران کے بغیر حل نہیں ہو سکتا اور ایران کو مڈل ایسٹ کے امن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جس دن امریکہ نے یہ بیان دیا تھا یقیناًیہاں تک آتے آتے اس کے پر جل چکے تھے۔ایران کی مڈل ایسٹ میں حکمرانی سعودی عرب اور اسرائیل کے لیے کھبی بھی قابل قبول نہیں تھی اور نہ ہوگی جس سے امریکہ ، سعودی اور اسرائیل کے نئے تضادات سامنے آئیں گئے موجودہ سعودی اور ایرانی تنازعہ بھی اسی پیش منظر کا غماز ہے ۔ مستقبل میں سعودی اور اسرائیلی دوستی اور اتحاد بھی ایران کے خلاف بلا واسطہ یا بل واسطہ منظر عام پر آئیں گئے ۔

امریکی سامراج کی سماجی اور اقتصادی کمزوری اور بے بسی نے نا چاہتے ہوئے بھی ایران سے دشمنی ختم کر کے مصالحت پر مجبور کیا اور ایران پر پابندیوں کو کم کرنا پڑا ۔ جس سے اس سال ایران عالمی منڈی میں اپنا تیل اور چند اجناس فروخت کر سکے گا ایران کی مڈل ایسٹ میں حکمرانی سعودی شہنشاہوں کے لیے کسی عذاب الہی سے کم نہیں ہوگئی اسی لیے سعودی عرب کی ایران کے خلاف اشتعال انگزیاں جاری رہیں گئے تا کہ ایران کو مشتعل کر کے کسی انتہائی قدم پر مجبور کیا جائے اور پھر تمام دنیا سے ملکر ایران کی پٹائی کی جائے ۔ سعودی حکمرانوں کا دہشت گردی کے خلاف نام نہاد اتحاد بھی ایران سے خوف کی علامت ہے اور ایران  کے خلاف ایک متبادل طاقت بنا ہے جو کہ موجودہ سعودی سماجی اور ریاستی حالات میں ممکن نہیں ہے .   سب کو معلوم ہے کہ افغانستان سے پاکستان، شام سے عراق اور لیبا سے نائجریا تک تمام اسلامی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پر سعودی عرب اور قطر ہیں جو انکو اسلحہ اور مال کی تمام سپلائی کرتے ہیں پچھلے ہفتے جرمنی کے نائب کانسلر نے کہا تھا کہ جب تک سعودی عرب داعش ، طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ کرتا رہے گا دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا مشکل ہے ۔

ایرانی حکمران ملا  ایک عرصہ دراز سے تمام مڈل ایسٹ کی منڈی کو لالچی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے لیکن ان کے بس میں کچھ نہیں تھا لیکن اب امریکی سامراج کے منہ توڑ بحرانوں نے اسے تمام دنیا کی حکمرانی سے پسپا کر دیا ۔ تمام تر فوجی اور سیاسی کوشیشوں کے باوجود اسے عراق ، افغانستان اور شام میں زبردست شکست ہوئی جس نے نہ صرف امریکی معیشت کی کمر توڑ دی بلکہ سماجی اور اقتصادی بحران نے اسے اسکی کمزور طاقت کا احساس دلایا اور اس نے مڈل ایسٹ میں روس اور ایران کی طاقت کو تسلیم کیا ۔ ایرانی رجعتی حکمرانوں کو آج بھی اس کا اندازہ ہے کہ امریکہ نے اپنی پھٹتی کو ایران سے مصالحت کی ہے اور جب بھی امریکی حکمرانوں کو موقعہ ملا وہ ایران کو نہیں چھوڑیں گئے ۔ اس دشمنی کی کوئی ذاتی وجہ نہیں ہے بلکہ منڈی ، حکمرانی اور مالیاتی مفادات کی جنگ ہے۔ ایران ، سعودی تنازعہ کو جس پر شعیہ سنی کا لیبل لگا کر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے.  حقیقت میں اس لڑائی میں مذہب کو زبردستی گھسٹا گیا ہے تاکہ  اصل حقائق کو چھپانے جائے.  مذہبی جذباتی اور جنونیوں کی حمایت حاصل کی جاسکے۔

ایرانی حکمران امریکی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مالیاتی اور فوجی طاقت میں اضافہ کر یں گئے اور پورے مڈل ایسٹ اور خلج کو اپنی منڈی بناکر اس میں اپنے سامراجی لوٹ کے  پنجے کھاڑ دے گا یہی اس کا مقصد اور عزم ہے کیونکہ مالیاتی نظام میں صرف مالیاتی مفادات ہی مقدم ہوتے ہیں اسی کے لیے جنگ ، دوستی اور دشمنی ہوتی ہے ۔ مذہب ، قومیں ، ملک ، نسلیں، ایک دھوکہ اور کھلواڑ ہوتا ہے ۔

ایران کے مڈل ایسٹ میں سامراجی کردار سے امریکہ اس لیے خوف زدہ ہے کہ اس سے مشرق وسطی میں امریکی مالیاتی مفادات کو زد پہنچے گئی جو اس کو قابل قبول نہیں ہوگا جس سے مستقبل میں پھر امریکہ ایران تضادات ابھریں گئے کیونکہ مال کم ہے اور چور زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا اتنا غلط نہیں ہے کہ ایران ، امریکہ تعلقات پاکستان اور انڈیا کی اپائج دوستی دشمنی کی طرح ہیں جو نہ دشمن ہیں نہ دوست اپنی اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں تنگ مصالحتیں کرتے ہیں کھبی دوستی اور کھبی دشمنی کا ناٹک کرتے ہیں کیونکہ طاقت ہمیشہ فیصلہ صادر کرتی ہے کمزور مصالحت کرتے ہیں۔

مڈل ایسٹ کے انتشار اور بحران میں سب زیادہ کمائی اب تک ترکی نے کی ہے ۔ داعش سے بلیک سستا تیل خرید کر عالمی منڈی میں مہنگا فروخت کیا اور مڈل ایسٹ کے وسائل کو خوب لوٹا جس کے بدلے داعش کو اسلحہ دیا گیا اور انہیں مضبوط کیا گیا ۔ اور اپنے خلاف کرد طاقت کو شام اور عراق میں جاکر داعش سے ملکر امن کے نام پرترکی فوج کے ذریعے کچلا گیا جس وجہ سے عراقی صدر نے امریکہ کے حکم پر ترکی فوج کو عراق بدر کیا ۔ کیونکہ ترکی کی ان حرکتوں سے نیٹو اور امریکہ  خوش نہیں تھے.  ترکی کی سپورٹ داعش کی طاقت میں اضافہ بنا او داعش جنکی تعداد پانچ سو سے پانچ ہزار تک پہنچ گئ یہ نیٹو اور امریکہ کی کمر میں چھرا کھوپنے کے مترادف تھا لیکن روس کی مداخلت ترکی کے لیے نقصان دہ بنی اس لیے ترکی نے روس کا طیارہ مار گریا تاکہ روس ترکی کے خلاف کوئی ایکشن کرئے اور نیٹو سے ملکر روس کے خلاف ایکشن کیا جائے اور اس کو مڈل ایسٹ سے واپسی کی راہ دیکھی جائے لیکن امریکہ اور یورپ کو اس کا علم تھا کہ روس کی فوجی طاقت کے بغیر سر چڑھی داعش کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور ویسے بھی امریکی معیشت میں مزید جنگوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور فوج کا مورار بھی امریکی حکمرانوں کے جنگی جنون سے گر چکا ہے۔ امریکی عوام بھی جنگوں سے تنگ آچکے ہیں امریکی سامراج نے اپنی خیریت اسی میں جانی کے شام میں روس اور ایران کی طاقت کو تسلیم کرکے امریکی عالمی کردار کو جو اب یہ نھبا نے کے قابل نہیں رہا اسے تسلیم کر کے اپنی رہی سہی عزت کو بچاجائے اس کا یہ فصیلہ یقینا ترکی، سعودی عرب ، اور اسرائیل کے لیے ناپسندیدہ تھا ۔

روس کے خلاف ترکی کو منہ کی کھانی پڑی ۔اردگان اب اپنی اس شکست کو ترکی میں کرد علاقوں پر فوجی جارحیت سے زائل کرنے کی کوشیش کر رہا ہے ۔ کردوں کا تعلق زیادہ تر بائیں بازو کی قوتوں سے ہے اور اردگان کا یہ قدم موجودہ حکومت کے خلاف مزید نفرت کو بھڑکا رہا ہے جس کا اظہار بہت جلد ہو گا ۔ 

جبکہ دوسری طرف مڈل ایسٹ کا محنت کش طبقہ سب سے زیادہ معاشی ، سیاسی ، ریاستی اور سماجی جبر کا شکار ہے اور ان سماجوں کی گھٹن اور تعفن نے ہی یہاں کے عوام کو عرب انقلاب کی تحریکوں میں منظم کیا اور تنونس ، مصر کی تیس تیس سالہ شہنشاہیت کے جبر کو دنوں میں مٹا دیا لیکن بدقسمتی ہے مارکسی قوتوں اور ایک انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی ان انقلابات کو انکی حقیقی منزل سوشلسٹ اانقلاب تک نہ لے جاسکی اور یہ  عوامی طاقت منتشر ہونے لگی لیکن انقلاب کا عمل کھبی سیدھی لائن میں عمل نہیں کرتا بلکہ اتار چڑھاو اس کا ناگزیز حصہ ہیں جو طویل بھی ہو سکتے ہیں اور مختصر بھی جس کا دارومدار ایک انقلابی قیادت اور اس کے درست ٹھوس نظریات پر قائم لچک دار حکمت عملی پر ہے ۔عرب سپرنگ اور یہاں کی عوامی طاقت کی قوت پوری دنیا نے دیکھی انہوں نے بھی دیکھی جن کا انقلاب اور عوام سے اعتماد اٹھ چکا تھا۔ عرب بہار کے جھونکے ابھی تھمے نہیں ۔ 

مڈل ایسٹ پر امریکہ حکمرانی کرئے یا ایران یا پھر امریکہ اور ایران ملکر سرمایہ داری کے تحت عوام کی خوشحالی ، امن وسکون اور اس خطے کا استحکام ممکن نہیں کیونکہ لوٹ مار ، اور بھوک ننگ کی ایک حد ہوتی ہے اور اب تو واقعی حد ہوگئی ہے۔ کیونکہ مالیاتی نظام کے بحران صرف عوام کی زندگیوں کو مشکل اور تنگ کرتے ہیں جبکہ ملٹی نیشنل ، بینک ، صنعت کار اور کاروباری تو بحران پر بھی دھندہ کرتے ہیں اور اپنے منافعوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں ۔ مڈل ایسٹ کی بدلتی نئی صورتحال کسی حکمران کے لیے صحت مند نہیں ہے سعودی اور ترکی سماج میں ٹائم بم کی گھڑی چل چکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پھٹتا کب ہے ۔ ایران کے رجعتی ملا مڈل ایسٹ کی لوٹ کے جو خواب دیکھ رہے ہیں وہ جلد چکنا چور ہو جائیں گئے ۔مشرق وسطی کی سلامتی، امن اور استحکام کی ضمانت اب ماسوائے مڈل ایسٹ کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا۔

 

 

Comments   

0 #1 profile 2018-10-31 07:51
Need cheap hosting? Try webhosting1st, just $10 for an year.

Quote

Add comment


Security code
Refresh